چیف ایڈیٹر:طارق محمود چودھری  ایڈیٹر: مظہر اقبال چودھری  مینیجنگ ایڈیٹر: ادریس چودھری

ستمبر 22, 2026 11:00 شام
تازہ ترین خبریں

23 مارچ 1940: قراردادِ پاکستان سے استحکامِ پاکستان تک* *پسِ منظر، نتائج، تقاضے، ذمہ داریاں*بقلم: ڈاکٹر فیض احمد بھٹی

*23 مارچ 1940: قراردادِ پاکستان سے استحکامِ پاکستان تک* *پسِ منظر، نتائج، تقاضے، ذمہ داریاں*بقلم: ڈاکٹر فیض احمد بھٹی

پاکستان کی تاریخ میں 23 مارچ محض ایک تاریخ نہیں، بلکہ ایک ایسا سچا عہد ہے، جو اس ملک کی قیادت اور اس کے بانیان نے اپنی قوم سے کیا اور لیا۔ یہ وہ دن ہے، جب برصغیر کے مسلمانوں نے اپنی سیاسی بصیرت اور فکری پختگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 23 مارچ 1940ء کو لاہور کے تاریخی میدان میں ایک ایسے آزاد اور خودمختار وطن کا مطالبہ پیش کیا، جو بعد ازاں پاکستان کی صورت میں دنیا کے نقشے پر نمودار ہوا۔ یہ قرارداد محض ایک سیاسی دستاویز نہیں تھی، بلکہ ایک مظلوم مگر باوقار قوم کے عزم بالجزم اور روشن مستقبل کی سمت کا واضح اعلان تھی۔مسلمانانِ ہند نے پاکستان کا مطالبہ وقتی جذبات سے مغلوب ہو کر نہیں کیا تھا، بلکہ اس کے پس منظر میں ایک شعوری پلاننگ تھی۔ وہ یہ کہ ہندوستان میں دو مختلف قومیں بستی ہیں، جن کا رہن سہن اور تہذیب و تمدن ایک دوسرے سے اس قدر مختلف ہے کہ ایک خطے میں ان کا بسنا محال ہے۔ وہ بخوبی جانتے تھے کہ ہندو اور مسلمان دو الگ تہذیبیں ہیں۔ اسی احساس نے انہیں اس نتیجے تک پہنچایا کہ برصغیر کے مسلمانوں کی ترقی اور دینی و تہذیبی شناخت کے تحفظ کےلیے ایک علیحدہ مملکت ناگزیر ہے۔ چنانچہ قائد اعظم محمد علی جناح کی مدبرانہ قیادت میں ایک ایسی جدوجہد کا آغاز ہوا، جو صرف 7 برس کے مختصر عرصے میں تاریخ کا دھارا موڑنے میں کامیاب ہو گئی۔قارئین! پاکستان کے قیام کا مقصد محض ایک خطہ زمین کا حصول نہیں تھا، بلکہ ایک ایسی ریاست کا قیام تھا، جہاں اسلامی تعلیمات کی روشنی میں عدل و انصاف اور اسلامی اخوت کو فروغ دیا جائے۔ وہاں ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا جائے، جہاں ہر شہری کو بلا امتیاز رنگ و نسل اور بلا لحاظ مذہب بنیادی انسانی حقوق اور ترقی کے مساوی مواقع حاصل ہوں۔ یہی وہ خواب تھا، جس نے لاکھوں مسلمانوں کو قربانی، ہجرت اور جدوجہد کے کٹھن راستوں پر استقامت کے ساتھ محو سفر رکھا۔ اسی جذبے نے قوم کو ایک نعرے پر متحد کیا: "پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ”۔آج بھی قوم 23 مارچ ملی جوش و جذبے کے ساتھ مناتی ہے۔ یومِ پاکستان کی تقریب میں قومی پرچموں کی بہار، عسکری پریڈ کی شان، افواجِ پاکستان کی پیشہ ورانہ مہارت، اور قومی اعزازات کی تقسیم ایک زندہ اور خوددار قوم کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ یہ دن ہمیں اپنی تاریخ کا روشن باب یاد دلاتا ہے، ہمارے شہدا کی قربانیوں کا احساس تازہ کرتا ہے اور ہمارے دلوں میں وطن سے محبت کی لو کو مزید تیز کرتا ہے۔مگر یہاں سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اس دن کے اصل پیغام کو اپنی اجتماعی زندگی کا حصہ بنایا ہے؟ کہیں ہم نے قائد کی روح کو شرمندہ تو نہیں کیا؟! حقیقت یہ ہے کہ ہم 23 مارچ کا دن جوش و خروش سے تو مناتے ہیں، مگر قراردادِ پاکستان کے بنیادی تقاضوں کو اپنی قومی زندگی میں پوری طرح نافذ نہیں کر سکے۔ ہماری سیاسی ترجیحات، ہمارے سماجی اطوار اور ہماری قومی ترجیحات کئی حوالوں سے قائد کی سوچ اور اقبال کے خواب سے متضاد ہیں۔ یہی وہ لمحہ فکریہ ہے جہاں ہمیں جشن سے آگے بڑھ کر مشن اور احتساب کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ یہ دن صرف ماضی کے کارنامے دہرانے کا نہیں، بلکہ حال کی اصلاح اور مستقبل کی تعمیر و ترقی کا بھی دن ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم دو قومی نظریے کی روح کو اچھی طرح سمجھیں، قائداعظم کے افکار کو نئی نسل تک پہنچائیں اور نوجوانوں کو یہ باور کرائیں کہ پاکستان محض جغرافیے کا نام نہیں، بلکہ ایک نظریے، ایک مسلسل جدوجہد اور کلمہ طیبہ کی پاسداری کا نام ہے۔ جب تک قوم کے افراد اپنے کردار اور اپنی گفتار میں پاکستان کے اصل مقاصد کو سموئیں گے نہیں، اس وقت تک ترقی اور وقار کا خواب ادھورا رہے گا۔موجودہ عالمی اور علاقائی حالات نے اس حقیقت کو مزید نمایاں کر دیا ہے کہ قومی یکجہتی آج ہماری سب سے بڑی ضرورت ہے۔ ایسے نازک دور میں یہ خوش آئند ہے کہ یومِ پاکستان کے موقع پر پوری قوم نے، کیا سیاسی و مذہبی کیا سماجی تجارتی کیا صحافتی ۔۔۔۔ اپنی مسلح افواج کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ بلاشبہ افواجِ پاکستان نے ملک کی سلامتی، خودمختاری اور جغرافیائی سرحدوں کے تحفظ کےلیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وطن کے دفاع میں ان کا کردار تاریخ کے اوراق میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ ایک مضبوط دفاع ہی مستحکم معیشت، پائیدار امن اور سرمایہ کاری کے فروغ کی بنیاد بنتا ہے۔آج کے دن ہمیں یہ عہد بھی کرنا چاہیے کہ ہم اختلافات کو دشمنی میں بدلنے کی بجائے قومی مفاد پر یکجا ہونا سیکھیں گے۔ ہم اپنی سیاسی، سماجی اور فکری تقسیم سے بلند ہو کر پاکستان کے استحکام، معاشی خودانحصاری اور نظریاتی بقا کےلیے اپنا کردار ادا کریں گے۔ کیونکہ قومیں محض نعروں سے نہیں، بلکہ اجتماعی شعور، مسلسل محنت اور سچے عزم سے مضبوط ہوتی ہیں۔23 مارچ ہمیں یہی درس دیتا ہے کہ جب کوئی قوم اپنے مقصد کےلیے متحد ہو جائے، اپنے رہنما کی آواز پر لبیک کہے اور اپنی منزل پہ نظریں جما لے، تو اس کےلیے ترقی کے ابواب کھلتے جاتے ہیں۔ آج پھر ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم قراردادِ پاکستان کے پیغام کو محض تقریبات، بیانات اور نعروں تک محدود نہ رکھیں، بلکہ اسے اپنے قومی رویّے، ریاستی ترجیحات اور معاشرتی اقدار کا حصہ بنائیں۔ یہی قرارداد پاکستان سے استحکامِ پاکستان تک کا حقیقی سفر ہے، اور یہی 23 مارچ کا اصل پیغام بھی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

متعلقہ خبریں

اہلیان دینہ اور گردونواح کے علاقوں کے لیئے خوشخبری ۔فلو نزلہ زکام بخار سے محفوظ سردیاں معروف چائلڈ سپیشلسٹ ڈاکٹر ملک عدیل افتخار اعوان کی زیر نگرانی عدیل کلینک نزد مرکزی جامع مسجد و میزان بینک جی ٹی روڈ دینہ پر فلو ویکسین کے لیئے اسسمینٹ کیمپ کا انعقاد 26 ستمبر بروز ہفتہ صبح 9 بجے سے 1 بجے تک کیا جائے گا

عمرہ کی سعادت حاصل کرنے پر صدر پریس کلب عمران سلفی کوسنیئر صحافیوں کی طرف سے مبارکبادورکنگ جرنلسٹ قصور کے گروپ لیڈر شیخ محمد حسین، افضل ناصر بھٹی، سعید بھٹی، شوکت نقشبندی نے گلدستہ پیش کیامحبت ایک ایسی عالمی زبان ہے جو سب سے زیادہ "حرمین شریفین” میں بولی اور سمجھی جاتی ہے: محمد عمران سلفی

تازہ ترین خبریں

اہلیان دینہ اور گردونواح کے علاقوں کے لیئے خوشخبری ۔فلو نزلہ زکام بخار سے محفوظ سردیاں معروف چائلڈ سپیشلسٹ ڈاکٹر ملک عدیل افتخار اعوان کی زیر نگرانی عدیل کلینک نزد مرکزی جامع مسجد و میزان بینک جی ٹی روڈ دینہ پر فلو ویکسین کے لیئے اسسمینٹ کیمپ کا انعقاد 26 ستمبر بروز ہفتہ صبح 9 بجے سے 1 بجے تک کیا جائے گا

عمرہ کی سعادت حاصل کرنے پر صدر پریس کلب عمران سلفی کوسنیئر صحافیوں کی طرف سے مبارکبادورکنگ جرنلسٹ قصور کے گروپ لیڈر شیخ محمد حسین، افضل ناصر بھٹی، سعید بھٹی، شوکت نقشبندی نے گلدستہ پیش کیامحبت ایک ایسی عالمی زبان ہے جو سب سے زیادہ "حرمین شریفین” میں بولی اور سمجھی جاتی ہے: محمد عمران سلفی