
معاشرے میں غلطیاں اس حد تک بڑھ گئی ہیں جس سے معاشرے میں تکلیف کی صورت پیدا ہو گئی ہے۔گندگی کا ڈھیر جہاں بھی ہوتا ہے وہاں تعفن ہی پھیلتا ہے اور بدبو آتی ہے ایسی جگہ رہنا نا گزیر ہوجاتا ہے۔جب بھی اپنی عملی زندگی کے امور کو دیکھیں اگر خود کو امتحان میں دیکھیں تو اپنے قول و فعل کو ضرور جانچیں کہ ان کے پیچھے جو میری نیت ہے وہ کیا ہے؟کیا میرے اعمال صرف خود کو تسکین دینے کے لیے ہیں یا اللہ کی رضا کے لیے کر رہا ہوں۔ امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبار ک کے روزخطاب۔ انہوں نے کہا کہ خلوص اللہ کی بہت بڑی عطا ہے موجودہ حالات میں صفائے قلب کی اشد ضرورت ہے تا کہ ہمارا ہر عمل اور نہاں خانہ سے اُٹھنے والے خیالات اورنیت درست ہو سکے۔انسانی زندگی میں کئی طرح کے حالات آتے ہیں اپنے پرائے ہو جاتے ہیں بیگانے اپنے لگنے لگتے ہیں،خوشی دکھ میں بدل جاتی ہے اور تکلیف میں مسکراہٹیں بکھرنے لگتی ہیں،یہ زندگی ہے اسی سے ہر ایک نے گزرنا ہے۔زندگی کے ان جھمیلوں میں خود کو دیکھتے رہیے کہیں ایسا نہ ہو کہ حق سے پھر جاؤ۔حالات جیسے بھی ہوں حق کا ساتھ کبھی نہ چھوڑیں۔اپنے تعلقات لوگوں سے اس لیے نہ بناؤ کہ اس سے امیدیں لگا بیٹھو اپنی امیدوں کا مرکز صرف اللہ کریم کو بناؤ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اللہ کریم بندگی کو وہ تعلق عطا فرمائیں کہ بندے کو یہ یقین ہو کہ جو کچھ بھی ہے میرے اللہ کریم کے دست قدرت میں ہے۔اُمتی کا رشتہ نصیب ہو۔ یہ خواہشات اور ان کی حیثیت ہی کیا ہے؟کتنی ہی خواہشات ہوتی ہے جن کی تکمیل کے لیے ہم سرگرداں رہتے ہیں جب پوری ہوتی ہیں تو ہم کہتے اس کے لیے کتنا وقت ضائع کیا۔جب بندہ حق پر نہ ہو تو سہولت بھی تکلیف دیتی ہے۔اگر اللہ سے تعلق مضبوط ہو پھر ارشادات نبوی پر عمل کرنے کو جی چاہتا ہے چھوٹی چھوٹی باتوں میں نبی کریم ﷺ کی سنت پر عمل کرنے کو جی کرتا ہے۔ہر پہلو میں ڈھونڈتا پھر ے کہ میرے لیے میرے نبی کریم ﷺ نے کیا فرمایا۔آپ ﷺ نے فرمایا کہ میرے بعد ایک زمانہ آئے گا کہ مجھے بن دیکھے لوگ مجھ پر جانیں نچھاور کریں گے۔وہ مجھ سے محبت کریں گے۔ اللہ کریم امتی کا یہ رشتہ اور اس کی نزاکت سمجھنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائ



















