چیف ایڈیٹر:طارق محمود چودھری  ایڈیٹر: مظہر اقبال چودھری  مینیجنگ ایڈیٹر: ادریس چودھری

اگست 7, 2026 4:38 صبح

بچے معاف کرنا ۔ بھول جانا اور ہم تحریر :ڈاکٹر ملک عدیل افتخار اعوان۔ دینہ

بچے معاف کرنا ۔ بھول جانا اور ہم

تحریر!ڈاکٹر ملک عدیل افتخار اعوان

چائلڈ سپیشلسٹآپ کابچہ گھر میں شرارت کررہاہے،آپ غصہ میں آکر اسے منع کرتے ہیں جس پر وہ ناراض ہوجاتاہے لیکن تھوڑی دیر بعد جب آپ اسے آواز دے کر بلاتے ہیں تو وہ ہنستے ہوئے آپ کے پاس آجاتاہے۔معاف کرنے اور بھول جانے کی عادت جس انسان میں بھی ہوتی ہے وہ زندگی میں زیادہ پرسکون اور مطمئن ہوتاہے،لیکن افسوس کہ آج معاشرے میں انتقامی جذبات بڑھ رہے ہیں۔ہم دوسروں کی غلطیاں معاف نہیں کرتے بلکہ ایک لمبے عرصے تک اسے اپنے دل و دماغ میں رکھتے ہیں اور جیسے ہی موقع ملے تو اس شخص سے بدلہ لیتے ہیں۔رحم دلی نہ ہونے کی وجہ سے ہمارے اندر بہت سی جسمانی و روحانی بیماریاں پیدا ہوچکی ہیں۔آج آپ کو 35سال کی عمر میں بھی ایسے لوگ ملیں گے جودل کے امراض میں مبتلا ہیں، جب کہ بہت سے لوگ بلڈپریشر اور شوگر کے مریض ہیں۔اس عمر میں یہ بیماریاں پہلے نہیں ہوتی تھیں لیکن آج عام ہوچکی ہیں۔کیوں کہ اب معاشرے میں حسد، کینہ اور انتقام بڑھ چکا ہے۔معاف کرنے اور بھول جانے والی عادت جوشخص بھی اپنے اندر پیدا کرلیتا ہے تو اسے سب سے پہلا تحفہ یہ ملتاہے کہ وہ خود کو آزادمحسوس کرتاہے۔انتقام ایک بہت بڑا بوجھ ہے جس میں مبتلاشخص ہروقت اپنے دماغ پریہ بوجھ لیے پھرتاہے۔اس بوجھ کی وجہ سے اس کی سوچ منفی ہوجاتی ہے۔اس کا اطمینان ختم ہوجاتاہے۔وہ ہر وقت بے چینی کاشکار نظر آتاہے لیکن جیسے ہی وہ معاف کرتاہے تووہ اس بوجھ سے آزاد ہوجاتاہے۔معاف کرنے کادوسرا فائدہ یہ ہے کہ اس کی وجہ سے صحت بہترین ہوجاتی ہے۔معاف کرنے کا تیسرافائدہ یہ ہے کہ اس کی بدولت انسان ذہنی اطمینان حاصل کرلیتا ہے۔دوسروں کو معاف کرنے سے انسان ذہنی تنائو ،بے چینی اورڈیپریشن جیسی خطرناک بیماریوں سے چھٹکاراپالیتا ہے

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

متعلقہ خبریں

جہلم:DHQ ہسپتال جہلم ، چلڈرن وارڈ میں 35 بیڈز پر 70 بچے اور ساتھ 70 مائیں ، بیڈز کی تعداد بڑھائی جائے ، عوامی حلقے ، اس گرمی اور حبس میں ائیرکنڈیشنر 4 سے 5 گھنٹے چلایا جاتا ہے پھر 6گھنٹون کے لئے بند کر دیا جاتا ہے ، مائیں ، وارڈ میں پنکھوں کی ہوا نہ ہونے کے برابر ہے ستم یہ کہ میرے بیڈ پر پنکھا ہی نہیں ،میں ساری رات ہاتھ والے پنکھے سے اپنے بچے کو ہوا دیتی ہوں ، ایک ماں کی دہائی

تازہ ترین خبریں

جہلم:DHQ ہسپتال جہلم ، چلڈرن وارڈ میں 35 بیڈز پر 70 بچے اور ساتھ 70 مائیں ، بیڈز کی تعداد بڑھائی جائے ، عوامی حلقے ، اس گرمی اور حبس میں ائیرکنڈیشنر 4 سے 5 گھنٹے چلایا جاتا ہے پھر 6گھنٹون کے لئے بند کر دیا جاتا ہے ، مائیں ، وارڈ میں پنکھوں کی ہوا نہ ہونے کے برابر ہے ستم یہ کہ میرے بیڈ پر پنکھا ہی نہیں ،میں ساری رات ہاتھ والے پنکھے سے اپنے بچے کو ہوا دیتی ہوں ، ایک ماں کی دہائی