چیف ایڈیٹر:طارق محمود چودھری  ایڈیٹر: مظہر اقبال چودھری  مینیجنگ ایڈیٹر: ادریس چودھری

مئی 8, 2026 9:00 شام

محمود مرزا جہلمی: صحافت، سیاست اور بصیرت کی زندہ اکیڈمی..نیر قلب:ڈاکٹر فیض احمد بھٹی آف جہلم

محمود مرزا جہلمی: صحافت، سیاست اور بصیرت کی زندہ اکیڈمی روزنامہ صدائے مسلم کی 52 سال سے مسلسل اشاعت بابائے صحافت و سیاست کی اعلیٰ صحافت اور زریں سیاست کا زندہ ثبوت ہے

نیر قلب:ڈاکٹر فیض احمد بھٹی آف جہلم

راقم کی پیدائش ضلع قصور کے قدیم شہر کنگن پور میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم وہیں حاصل کی۔ مجھ پہ اللہ تعالیٰ کی یہ خاص عنایت تھی کہ عہدِ طفولیت سے ہی دل کو دین و علما، حکمت و اطبا اور صحافت و صحافیوں سے ایک قدرتی لگاؤ تھا۔ سکول سے واپسی پر میں اسی کشش کے تحت اُن بزرگوں کی محفلوں میں جا بیٹھتا جو علم و دانش کے روشن مینار تھے۔ انہی محفلوں میں خاموش بیٹھ کر نہ جانے دانائی کے کتنے موتی چنے، حکمت کی کتنی باتوں سے روشناس ہوا۔ طبابت اور صحافت کے باقاعدہ سفر کا آغاز بھی یہیں سے ہوا۔ میرے استاد محترم ڈاکٹر رحمت اللہ ارشد صاحب اُس زمانے میں روزنامہ جنگ کے نمائندہ تھے۔ ان کے مطب پر روزنامہ نوائے وقت کے نمائندہ ڈاکٹر رشید احمد کھوکھر اور روزنامہ خبریں کے نمائندہ جناب عطاء اللہ ظفر اور دیگر صحافی تسلسل کے ساتھ بیٹھا کرتے۔ وہ محفلیں گویا میرا پہلا صحافتی مدرسہ تھیں، جہاں میں لفظوں کے استعمال، خبر و اخبار کی اہمیت اور صحافت کے سلیقے کو سمجھنے لگا۔ مجھے آج بھی بخوبی یاد ہے کہ استادِ گرامی اپنے ہاتھ سے خبریں تحریر کرتے۔ فوٹو کاپی کا رواج نہیں تھا۔ اگر ایک ہی خبر کے دو مسودے تیار کرنا پڑتے تو یہ ذمے داری میرے سپرد ہوتی۔ استادِ گرامی اصل خبر لفافے میں بند کر کے مجھے دیتے۔ اور پھر میں اسے اپنے شہر کے ریلوے اسٹیشن کے ڈاک ڈبے میں ڈال آتا۔ اگلے دن اخبار میں چھپی ہوئی خبریں دیکھنا اور ان خبروں کے تراشے بنا کر انہیں پیش کر دیتا۔ یوں طبابت کے ساتھ ساتھ صحافت کی پہلی عملی تربیت بھی ڈاکٹر رحمت اللہ ارشد ہی سے ملی۔ اسی دوران لکھنے کا شوق مزید پروان چڑھا اور روزنامہ نوائے وقت کا بچوں کے لیے مخصوص صفحہ "نوائے وقت پھول اور کلیاں” جو کہ بروز بدھ کو شائع ہوا کرتا تھا، اس میں میری چھوٹی موٹی تحریریں شائع ہونے لگیں۔ یوں راقم کا قلم کے ساتھ رشتہ مضبوط ہوتا گیا۔پھر جب زندگی نے نیا رخ لیا اور میں جہلم آ گیا، تو یہ ذوق مزید گہرا ہوگیا۔ یہاں میں نے ماہنامہ حرمین (جس کے چیف ایڈیٹر اس وقت علامہ محمد مدنی مرحوم تھے) سمیت دیگر مذہبی جرائد میں لکھنا شروع کیا۔ اس کے بعد میرے مضامین روزنامہ صدائے مسلم جہلم میں وقتاً فوقتاً شائع ہوتے۔ پھر وہ لمحہ آیا جب میرے کلاس فیلو مرزا خالد محمود بیگ کے ذریعے (جو بابا جہلمی کے بھتیجے ہیں) میرا تعارف اس عظیم شخصیت سے ہوا، جنہیں بابائے صحافت و سیاست محمود مرزا جہلمی کہا جاتا ہے۔ چونکہ حضرت علامہ محمد مدنی رحمہ اللہ میرے فادر ان لا تھے اور بابا جی ان کے رفیقِ خاص، سو اس نسبت نے بھی میرے لیے محبت کے دروازے کھول دیے۔ مزید برآں راقم جب مدینہ یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم تھا تو اس دوران باباجی جہلمی فیملی سمیت کئی بار حج عمرہ کرنے کےلیے آئے۔ اس وقت ان سے بھرپور ملاقاتیں رہیں۔ جب یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد میں واپس جہلم آیا تو پھر لکھنے لکھانے کا سلسلہ دوبارہ باقاعدگی سے شروع ہو گیا۔ اس وقت بابا جی نے نہ صرف اپنے اخبار میں میری تحریروں کو جگہ دی بلکہ مجھے اپنے صحافتی حلقے میں بھی شامل کیا۔ کبھی میں اپنے مضامین اس اخبار کے چیف ایڈیٹر طاہر محمود مرزا جہلمی یا ایڈیٹر حارث بیگ پھپھرا کو شائع کرنے کےلیے بھیجتا اور کبھی بابا جی کو بھیج دیتا۔ بعد ازاں بابا جی نے مجھے خبروں کے نیوز گروپ میں ایڈ کیا۔ یہ سلسلہ چلتا رہا یہاں تک کہ ادارہ صدائے مسلم کی ٹیم میں مجھے شامل کرتے ہوئے چیئرمین ایڈیٹوریل پیج مقرر کر دیا۔ یہ میرے لیے بہت بڑا اعزاز تھا۔ میں بلا تامل کہہ سکتا ہوں کہ میں نے صحافت کے جو گُر، خبر کی خبریت و معنویت، تجزیہ و تبصرہ کی جو نزاکتیں اور سیاسی حالات و سماجی واقعات کے حوالے سے رپورٹ کرنے، کالم لکھنے وغیرہ کا جو شعور حاصل کیا، وہ اکثر و بیشتر باباجی کی رہنمائی اور شفقت کا نتیجہ ہے۔آپ ایک فرد نہیں بلکہ ایک مکمل سیاسی و صحافتی اکیڈمی ہیں۔ آپ کا صحافتی تجربہ، اخبار کی نشر واشاعت کی باریک بینیوں میں ید طولی، تاریخی مناظر پر دسترس، اقوامِ عالم سمیت پورے پوٹھوہار کی تاریخ، خاص کر تاریخ مغلیہ پر استحضار حیران کر دینے والا ہے۔ ضلع جہلم، چکوال، گجرات، منڈی بہاؤالدین اور میرپور کے سیاسی و سماجی گھرانوں اور ان کے مزاج سے ان کی واقفیت بے مثل ہے۔ دینِ اسلام سے محبت، پاکستان سے اخلاص اور جہلم کے عوام کےلیے ان کا درد؛ یہ وہ اوصاف ہیں جو انہیں دیگر اربابِ جہلم سے منفرد بناتے ہیں۔ بابا جی کے حوالے سے جو کچھ میں نے اپنے دل کی گہرائیوں میں محسوس کیا، دوستوں کی محفلوں میں سنا اور اخبارات میں پڑھا، اس سب نے مجھے ایک ہی نتیجے تک پہنچایا کہ بابائے صحافت و سیاست اپنے فن، اپنی کاوشوں اور اپنی خدمات کے اعتبار سے ایک نابغہ روزگار شخصیت ہیں۔ ان کی صحافت ہو یا اخبار صدائے مسلم، اس خطے کے مسائل کو اجاگر کرنے اور ان کے حل کےلیے جدوجہد کرنے میں انہوں نے جو کردار ادا کیا، وہ محض میرے فخر کا باعث نہیں، بلکہ حقیقتاً یہ پورے جہلم کا افتخار، اور خطہ پوٹھوہار کی تاریخ کا حصہ ہے۔ روزنامہ صدائے مسلم کی 52 سال سے مسلسل اشاعت بابائے صحافت و سیاست کی اعلیٰ صحافت اور زریں سیاست کا زندہ ثبوت ہے۔گذشتہ سال ابنِ عباس اسلامک ریسرچ سینٹر جہلم کے زیرِ اہتمام صدائے مسلم اخبار کی گولڈن جوبلی کی منعقدہ تقریب میں جب میں نے علاقے کے نامور صحافیوں، سیاست دانوں اور سماجی رہنماؤں کو محمود مرزا جہلمی کے بارے میں عقیدت و احترام سے لبریز گفتگو کرتے دیکھا، تو میرا دل اس بات پر مزید مطمئن ہوا کہ بابا جی کے بارے میں میری رائے کسی ذاتی جذبات کی مرہونِ منت نہیں، بلکہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ سیاست و صحافت کے باب میں ان کی محنت، ان کی دیانت، ان کی جرأت اور ان کی علمی گہرائی کا اعتراف ہر صاحبِ نظر نے کیا۔مجھے اس بات پر بھی فخر حاصل ہے کہ جیسے دینی و دنیاوی تعلیم میں میرے اساتذہ انتہائی بلند پایہ شخصیات رہیں، ویسے ہی صحافت اور سیاست میں میرے استاد محمود مرزا جہلمی بلند و بالا خصوصیات کے مالک ہیں۔ ایک دبنگ، بےباک اور راست گو صحافی الغرض ایک ایسا استاد جو موجودہ دور میں صحافت و سیاست کی ایک زندہ اکیڈمی کی حیثیت رکھتا ہے۔ بالخصوص صدائے مسلم کا جنرل گروپ ہو یا جہلم کے دیگر صحافتی فورمز؛ جہاں کہیں وہ رہنمائی دیتے ہیں، بڑے بڑے نامور صحافی ان کی بصیرت، تجربے اور صحافتی شعور کو داد دیے بغیر نہیں رہتے۔ تاریخ سے ان کا شغف اور حافظہ قابلِ رشک ہے۔ ضلع جہلم کے بالخصوص اور خطہ پوٹھوہار کے بالعموم ہر علاقے، ہر قوم اور ہر عہد کا تاریخی سرمایہ انہیں ازبر ہے۔ علاوہ ازیں اسلامی تاریخ، برصغیر پاک و ہند کے سیاسی پس منظر اور قیام پاکستان سے لے کر آج تک کے تمام حالات و واقعات پر آپ کی گہری نظر ہے۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کی خاص عطا ہے۔ان کے اندر دینِ اسلام سے والہانہ محبت، دینی اداروں سے شغف، وطنِ عزیز پاکستان سے فطری وابستگی اور ضلع جہلم اور اس کے عوام کے لیے بے پایاں پیار پایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اپنے اخبار میں وہ ہر اس مسئلے کو بےخوف ہو کر قلمبند کرتے ہیں، جو اسلام، پاکستان اور عوام کی بہتری اور علاقے کی تعمیر و ترقی سے متعلق ہو۔راقم ذیل میں روزنامہ صدائے مسلم کی منعقدہ گولڈن جوبلی تقریب میں بابائے صحافت و سیاست محمود مرزا جہلمی کے بارے میں اہلِ دانش کی آرا پیش کرنا چاہتا ہے، تاکہ آپ پڑھ کر خود فیصلہ کریں کہ میں اپنے استادِ گرامی محمود مرزا جہلمی پر جو فخر محسوس کرتا ہوں، کیا وہ برمحل نہیں!!!تقریب میں ضلع جہلم کی صحافی، سماجی، مذہبی، سیاسی اور دیگر اہم شخصیات بابائے صحافت و سیاست کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے یوں لب کشا ہوئیں:محمود مرزا جہلمی اس دور کے شورش کاشمیری ہیں: غیاث الدین بلبن، صحافت میں میرے سمیت سینکڑوں لوگوں نے محمود مرزا جہلمی سے بہت کچھ سیکھا: صفر علی خان، محمود مرزا جہلمی سچی اور بے باک صحافت کے علمبردار ہیں: امجد بٹ، محمود مرزا جہلمی مغلیہ تلوار لے کر آئے اور بذریعہ قلم چھا گئے: ریاض چوہدری، محمود مرزا جہلمی نے اس وقت اخبار شائع کیا جب ایک خبر شائع کرنا بھی بہت مشکل تھا: ڈاکٹر عبدالشکور، محمود مرزا جہلمی صحافت و سیاست کا ایک انسائیکلوپیڈیا ہے: اشرف چغتائی، والد گرامی نے روز نامہ صدائے مسلم کی صورت میں ہمیں ایک ایسا عظیم تحفہ دیا ہے جس سے ہم دارین کی سعادتیں سمیٹ رہے ہیں: طاہر محمود مرزا و جہانگیر محمود مرزا، محمود مرزا جہلمی نے نہ صرف صحافت میں بلکہ سیاست اور خدمت میں بھی اپنا لوہا منوایا ہے: سکندر گوندل، بابائے جہلم محمود مرزا جہلمی کی حیات و خدمات پر عنقریب کتاب لکھوں گا: رائے یوسف رضا، جہلم کی صحافت و سیاست میں محمود مرزا جہلمی کے نقوشِ عظمت صدیوں تک قائم رہیں گے: سرفراز ملک، محمود مرزا جہلمی صحافت اور سیاست میں ایک برینڈ کا نام ہے: جہانگیر ڈار، محمود مرزا جہلمی ایک معتدل سیاستدان و قلمدان ہیں: وسیم قریشی، صحافتی رموز و غموز سیکھنے اور جذبہ اخبار چلانے میں محمود مرزا جہلمی کی مخلصانہ مشاورت اور تعاون کو کبھی نہیں بھول سکتا: ڈاکٹر محمد خلیل مرحوم، محمود مرزا جہلمی جرنلزم کی ایک عظیم اکیڈمی ہیں: ڈاکٹر فیض احمد بھٹی۔خلاصہ کلام یہ کہ شرکائے تقریب، مقالہ نویسوں اور مقررین حضرات کی مشترکہ رائے کے مطابق: 1محمود مرزا جہلمی "جہلم” کی شناخت ہیں، لہذا انہیں ہم بابائے جہلم کا خطاب بھی دیتے ہیں۔ 2محمود مرزا جہلمی صحافت گ شورش کاشمیری کی رفاقت کا حق ادا کر دیا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

متعلقہ خبریں

تازہ ترین خبریں