
جہلم (نعیم احمد بھٹی) یاد ماضی عذاب ہے یاروں چھین لے مجھ سے حافظہ میرا حکومتی اراکین جب اپوزیشن میں تھے تو 12 روپے لیٹر پیٹرول بڑھنے پر خوب واویلا مچایا اب پہلے۔ 55 روپے۔ پھر۔ 137 روپے ؟ حکومتی اراکین اس پر کیا جواب دیں گے شہری تو پوچھیں گے سوال تو کریں گے ؟ کہ جب یہ اپوزیشن میں ہوتے ہیں تو عوام کے بڑے ہمدرد بنتے ہیں لیکن جونہی اقتدار میں آتے ہیں تو سب کچھ بھول جاتے ہیں تفصیلات کے مطابق حکمران کوئی بھی ہوں اور کسی بھی سیاسی جماعت سے تعلق رکھتے ہوں جب اپوزیشن میں ہوتے ہیں تو عوام کے بڑے ہمدرد ہوتے ہیں اور عوام کے ساتھ ہونے والے ظلم میں اس وقت کے حکمرانوں کو خوب برا بھلا کہتے ہیں کیا عوام اتنی سادہ اور جاہل ہے کہ یہ حکمران اور سیاست دان ان سے جھوٹ بولتے ہیں اور ان کو دھوکہ دہی میں رکھتے ہیں یاد ماضی عذاب ہے یاروں چھین لے مجھ سے حافظہ میرا آج کے حکمرانوں کی جب یہ اپوزیشن میں تھے پرانے بیانات سن لیں تو کانوں کو ہاتھ لگا کر توبہ کرنے کو دل کرتا ہے کہ 12 روپے لیٹر بڑھنے پر خوب واویلا مچا دیا اور یہاں تک کہ اس وقت کے وزیر اعظم کو چور تک کہہ دیا اب شہری سوال تو کریں گے اور پوچھیں گے بھی کہ یہی وہ حکمران تھے جو ماضی میں ہمارے بہت ہمدرد تھے اور آج یہی ہمارے بچوں کے منہ سے روٹی کا نوالہ بھی چھین رہے ہیں ہوشربا مہنگائی نے ہماری کمر توڑ کر رکھ دی ہے اج پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ ہوچکا مہنگائی کا نہ رکنے والا ریلا بھی تیار آخر جائیں تو جائیں کہاں۔ ؟ لیکن لمحہ فکریہ یہ بھی ہے تو کہ عوام بے حس ہوچکی روتی بھی ہے حکومت اور سیاست دانوں کو برا بھلا بھی کہتی ہے لیکن جب الیکشن کے دن آتے ہیں تو یہی عوام ژندہ باد کے فلک شگاف نعرے بھی لگاتی نظر آتی ہے



















