
دینہ//باپ بیٹے کا نویں جماعت کے طالب علم پر قاتلانہ حملہ۔ تشدد کا نشانہ بنا دیا۔ پولیس نے مقدمہ درج نہ کیا۔ طالب علم فریاد لے کر تحصیل پریس کونسل دینہ آفس پہنچ گیا
دینہ// نثار احمد مغل سے//نویں جماعت کے طالب علم پر قاتلانہ حملہ تشددکا نشانہ بنایا ۔مریم نواز کلینک دینہ سے میڈیکل ہوا ۔پولیس تھانہ دینہ نے مقدمہ درج نہ کیا ۔طالب علم اپنے والد کے ہمراہ فریاد لیے تحصیل پریس کونسل کے دفتر دینہ پہنچ گیا ارباب اختیار سے دادرسی کی اپیل تفصیلات کے مطابق سید وقار حسین شاہ ولد سید مختار حسین شاہ سکنا ئےسید حسین تحصیل دینہ نے پولیس اسٹیشن دینہ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر جہلم اور دیگر ارباب اختیار کو درخواست دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ 9 نومبر 2025 کو بوقت 4 بجے میرا بیٹا سید عاطف حسین عمر تقریباً 15 سال اپنی دکان جو کہ پولیس اسٹیشن دینہ سے چند گز کے فاصلے پر کھوکھا موڑ پر سید چکن شاپ پر کاروبار کر رہا تھا کہ اتنے میں مبین ولد شوکت اور شوکت ولد نامعلوم سکنائے کھوکھا موڑ جو کہ ویلڈنگ کا کاروبار کرتے ہیں نے ا کر میرے بیٹے کو تشدد کا نشانہ بنایا گلا دبا کر مارنے کی کوشش کی اور ٹوکا اٹھا کر مارنے لگے اس دوران میرے بیٹے کی جیب سے تقریبا چار سے پانچ ہزار روپے نکال لیے میرے بیٹے نے مجھے فون کر کے مجھے دکان پر بلایا تو جب میں دکان پر گیا تو میرا بیٹا رو رہا تھا اس تمام واقعہ کی اطلاع ماڈل پولیس اسٹیشن دینہ کو دی جنہوں نے فرضی کاروائی کر کے میڈیکل کروایا مگر تین دن گزرنے کے باوجود ایف ائی ار درج نہ ہو سکی اس کے بعد میرے موبائل فون پر مختلف لوگوں نے دھمکیاں دینی شروع کر دیں کہ اگر تم نے راضی نامہ نہ کیا تو تو میں اور تمہارے بیٹے کو جان سے مار دیں گے باپ بیٹا دونوں پولیس سے دادرسی نہ ملنے کی صورت میں تحصیل پریس کونسل دینہ کے دفتر میں اپنی فریاد لے کر آ گئے اور ارباب اختیار سے مطالبہ کیا کہ میرے بیٹے پر میری دکان پر آ کر مبین ولد شوکت اور شوکت نے تشدد کیا اس کو جان سے مارنے کی کوشش کی گلا دبا کر اس کو قتل کرنا چاہتے تھے کہ اتنے میں مقامی لوگوں نے میرے بیٹے کی جان چھڑائی اگر موقع پر لوگ نہ پہنچتے تو یہ لوگ میرے بیٹے کو جان سے مار دیتے اب مجھے اور میرے بیٹے کی جان کو شدید خطرہ ہے تحفظ فراہم کیا جائے اور ملزمان کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے



















