
صالح عمل کی قبولیت کی دلیل یہ ہے کہ مزید نیک اعمال کی توفیق نصیب ہوتی ہے۔امیر عبدالقدیر اعوان
جہلم( ادریس چودھری ) صالح عمل کی قبولیت کی دلیل یہ ہے کہ مزید نیک اعمال کی توفیق نصیب ہوتی ہے۔امیر عبدالقدیر اعوان جیسے وجود کے لیے خوراک کی ضرورت ہے ایسے ہی روح کے لیے ایمان اور عبادات کی ضرورت ہوتی ہے اگر ایمان اور عبادات نہ ہوں تو روح کمزور ہو جاتی ہے۔جہاں عقیدہ نہ ہوپھر ہر شئے ہونے کے باوجود بھی زندگی بے معنی لگتی ہے۔ہر بندے میں اللہ کریم نے یہ استعداد رکھ دی ہے کہ وہ حق اور ناحق کو پہچان سکے۔ہم اللہ کریم کو اتنا ہی جان سکتے ہیں جتنا اُس نے انبیاء ؑ کے زریعے ہمیں اپنے بارے بتایا ہے مخلوق میں یہ استعداد نہیں کہ اللہ کی ذات کو خود سے جان سکے۔امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ وسر براہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب۔ انہوں نے کہا کہ بیت اللہ شریف میں اللہ کریم نے بے شمار برکات رکھی ہیں۔حج کرنے والاگناہوں سے اس طرح پاک ہو جاتا ہے جیسے آج پیدا ہوا ہے۔برکات میں قرب ا لٰہی اور رحمت الٰہی بھی شامل ہے۔اللہ کریم نے مخلوق کو جس عبادت کا حکم فرمایا ہے اس کا فائدہ مخلوق کو ہی ہے اللہ کریم تو بے نیاز ہیں اور مخلوق محتاج ہے۔ایمان کے بعد جو عبادات نصیب ہوتی ہیں اس سے بندگی کی توفیق عطا ہوتی ہے۔اللہ کا قرب نصیب ہوتاہے۔انسان اس کائنات میں ایک اکائی ہے اس حضرت انسان پر اللہ کریم نے بہت زیادہ احسانات فرمائے ہیں۔اس کی ہر طرح سے رہنمائی فرمائی ہے۔جس سے سہولت بھی ملتی ہے اور اجروثواب بھی عطا ہوتا ہے۔اللہ کریم نے جب انسان کو پیدا فرمایا ہے تو اس کی راہنمائی کے لیے زندگی گزارنے کے اصول اور ضابطے بھی ارشاد فرمائے ہیں۔جو اللہ کے حکم کے مطابق زندگی بسر کرے گا وہ دنیا و آخرت دونوں جہانوں میں کامیاب ہوگا۔ورنہ ایسے لوگ بھی ہوئے ہیں جنہوں نے زندگی بیت اللہ شریف میں بسر کی لیکن ایمان بھی نصیب نہ ہوا۔بیت اللہ شریف کی حاضری اگر رواجات کی نذر کر دیں گے تو کیا حاصل؟ اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔ آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔



















