چیف ایڈیٹر:طارق محمود چودھری  ایڈیٹر: مظہر اقبال چودھری  مینیجنگ ایڈیٹر: ادریس چودھری

جون 25, 2026 3:18 شام

بچے مسکراہٹ اور ہم۔۔ تحریر! ڈاکٹر ملک عدیل افتخار اعوان چائلڈ سپیشلسٹ ( دینہ ضلع جہلم)

بچے مسکراہٹ اور ہم

ڈاکٹر ملک عدیل افتخار اعوان چائلڈ سپیشلسٹ ( دینہ ضلع جہلم)

بچہ فطری طورپر مسکراتاہے۔اس کی مسکراہٹ خود غرضی سے پاک ہوتی ہے۔اسی وجہ سے ہمیں بچے پیارے لگتے ہیں۔انسانی چہرے پر اکیسMuscles ہوتے ہیں۔ اتنے زیادہ Muscles کی ورزش کا بہترین طریقہ مسکرانا ہے۔زیادہ مسکرانے والے انسان کے چہرے کے یہ مسلز اچھی حالت میں ہوتے ہیں اسی وجہ سے اس کاچہرہ ہمیں تازگی سے بھرپور محسوس ہوتاہے۔مسکراہٹ کی بدولت انسان کسی بھی مشکل ترین صور ت حال پر قابو پالیتا ہے۔آپ کا کسی کے ساتھ مسکراکر ملنا، اس کے دل میں آپ کے لیے عزت بڑھالیتا ہے۔آپ کی مسکراہٹ سے مخاطب انسان کی طبیعت خوش گوار ہوجاتی ہے اور آپ دونوں اپنے معاملات کو بہترین انداز میں بڑھاسکتے ہیں۔مسکرانے سے انسان کا اعتماد بڑھتاہے اوریہ اعتماد اس کی پیشہ ورانہ ترقی میں اہم کردارادا کرتاہے۔تحقیق بتاتی ہے کہ مسکرانے سے انسان کے معدہ کو خوش گواریت کاپیغام ملتاہے اور اسی وجہ سے ایسے شخص کانظام انہضام درست رہتاہے۔یہ بھی انسان کی خصوصیت ہے کہ اللہ نے اسے Face Expression(چہرے کے تاثرات کا اظہار) کی صلاحیت دی ہے۔یہ مسکراتاہے، قہقہے لگاتاہے اور روتا بھی ہے۔یہ نعمت دوسرے جان داروں کو نہیں ملی۔یہ بھی یادرکھیں کہ مسکرانے سے پیسے کم نہیں ہوتے،البتہ انسان کی اُمید بڑھ جاتی ہے۔دماغ میں موجود مثبت کیمیکلز کی سطح اوپر چلی جاتی ہے۔اس کی بدولت زندگی میں امکانات اور خوش حالی والی کھڑکیاں کھل جاتی ہیں اور انسان مشکل حالات میں بھی مثبت، خوش اور پُرسکون رہتا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

متعلقہ خبریں

زندگی کا سفر موت کی طرف ہے۔ہم بحیثیت مجموعی تجاوز کرتے ہیں اللہ کریم غفورالرحیم ہیں اگر ایک دن میں 70 بار بھی شرمندگی سے ندامت سے معافی مانگی جائے تو اللہ کریم معاف فرما دیتے ہیں۔ہمیں ہر وقت اپنا تجزیہ کرتے رہنا چاہیے ہر بندے کو اپنا بخوبی پتہ ہوتا ہے کہ نہاں خانہ دل میں کیا ہے؟امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ عالیہ کا سالانہ اجتماع کے موقع پر صحبت شیخ میں خطاب۔

تازہ ترین خبریں

زندگی کا سفر موت کی طرف ہے۔ہم بحیثیت مجموعی تجاوز کرتے ہیں اللہ کریم غفورالرحیم ہیں اگر ایک دن میں 70 بار بھی شرمندگی سے ندامت سے معافی مانگی جائے تو اللہ کریم معاف فرما دیتے ہیں۔ہمیں ہر وقت اپنا تجزیہ کرتے رہنا چاہیے ہر بندے کو اپنا بخوبی پتہ ہوتا ہے کہ نہاں خانہ دل میں کیا ہے؟امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ عالیہ کا سالانہ اجتماع کے موقع پر صحبت شیخ میں خطاب۔