چیف ایڈیٹر:طارق محمود چودھری  ایڈیٹر: مظہر اقبال چودھری  مینیجنگ ایڈیٹر: ادریس چودھری

مئی 2, 2026 11:46 شام

جہلم//الیکٹرک بس یا بچوں کا جھولا- عوام کے ساتھ مذاق ہے ؟چیف منسٹر نے جس مقصد کے لیے 15 الیکٹرک بسیں جہلم کو دیں اس کا سراسر غلط استعمال ھونے لگا۔

جہلم سے پروفیسر خورشید ڈار کی رپورٹ کے مطابق ۔الیکٹرک بس یا بچوں کا جھولا عوام کے ساتھ مذاق ہے ؟چیف منسٹر نے جس مقصد کے لیے 15 الیکٹرک بسیں جہلم کو دیں اس کا سراسر غلط استعمال ہو رہا ہے ۔دینہ تاجہلم کا سفر پرائیویٹ ٹرانسپورٹ کے ذریعے 25 منٹ میں ہو جاتا ہے الیکٹرک بس میں سفر کرنے کے لیے اپ کے پاس کافی وقت ہونا چاہیے سب سے پہلے 40 منٹ اپ کو سٹاپ پر انتظار کرنا ہوگا اب الیکٹرک بس غلطی سے اگئی ہے وہ بلا وجہ جگہ جگہ سٹاپ پر قیام کرے گی اس طرح 35 منٹ کے بعد فوجی فاؤنڈیشن ہسپتال جہلم کے قریب رک جائے گی اعلان ہوگا یہ اخری سٹاپ ہے اپ کو دوسری بس میں بیٹھنا ہوگا دوبارہ کرایہ دو اب وہ بس سفر کے لیے روانہ ہوگی اس طرح مجموعی طور پر ڈیڑھ گھنٹے میں اپ سول ہسپتال پہنچ جائیں گے کیا ایک مریض اس حالت میں سفر کر سکتا ہے ؟؟۔محسوس ہوتا ہے کہ ضلعی انتظامیہ نے اس کی روح کے مطابق بس چلانا ضروری نہیں سمجھا جگہ جگہ سٹاپ کی کیا ضرورت ہے .کیا دیگر بسیں ایسی پریکٹس کرتی ہیں لوگ ذلیل ہو کر دوبارہ پرائیویٹ ویگن میں بیٹھ کر اپنی منزل تک پہنچتے ہیں غیر ضروری روٹس پر الیکٹرک بس چلانے کا کیا مقصد ہے دینہ تا جہلم الیکٹرک بس 30 منٹ میں پہنچانے کی پابند ہونی چاہیے اگر بس میں جگہ ہے تو دوران سفر بریک لگانا مسافر کو اٹھانا اور اتارنا مفاد عوام ہے موجودہ طرز عمل چیف منسٹر پنجاب کے وژن کے خلاف ہے ظلم کی انتہا تمام ویگنوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ سول ہسپتال کے پاس سے نہیں گزر سکتی اس طرح مسافر کو جادہ کے مقام پر اتار دیا جاتا ہے دوبارہ وہ رکشے پر بیٹھتے ہیں اور پھر وہ سول ہسپتال جاتے ہیں ماضی قریب میں ایسا نہیں ہوا گزشتہ چھ یا سات ماہ سے ویگن کو اس روٹ پر جانے کی اجازت نہیں ہے غالباً ایک خاص منصوبے کے تحت مریض اور غریب ادمی کو تکلیف دینے کے لیے ایسا کیا گیا ہے سوال پیدا ہوتا ہے اس روٹ پر ویگن کو نہ جانے کی اجازت دینا اس کی کیا جوازیت ہے؟؟ کیا ماضی میں 30 /40 سال ویگن یہاں سے گزرتی رہی ہے تو کیا وہ غلط گزرتی رہی ہے؟ لوگ اس سے استفادہ حاصل کرتے رہے ہیں خدارا اپنے حکم نامے میں نظر ثانی کی جائے اور عوام کے مفاد میں فیصلے کیے جائیں ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

متعلقہ خبریں

تازہ ترین خبریں