
جہلم ( پروفیسر خورشید علی ڈار).گورنمنٹ اف پاکستان نے پٹرولیم مصنوعات میں بڑے پیمانے پر کمی کر دی ہے لیکن مقام افسوس ہے کہ اس کے اثرات ایک عام ادمی پر مرتب نہیں ہوئے اج بھی بازار میں اشیاء خوردنی لیں یا دیگر چیزیں لیں دکاندار من مانی کرتے ہیں انتظامیہ کا فرض بنتا ہے کہ وہ اس کام کو اپنا فرض سمجھتے ہوئے عوام کے مفاد میں متحرک ہوں۔ریٹ لسٹ کے مطابق دکانداروں کو پابند کیا جائے کہ وہ اپنی اشیاء فروخت کریں ایسے دکاندار اور جو ریٹ لسٹ سے ہٹ کر منافع حاصل کر رہے ہیں ان کے خلاف ایف ائی ار اور جرمانے کا ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے ہر تحصیل کا انچار جسے اسسٹنٹ کمشنر کہا جاتا ہے وہ تھوڑی سی توجہ دے کر عوام کو انگنت مفاد دے سکتا ہے مثلا جب پٹرول کی قیمت میں اس قدر کمی ہو گئی ہے جو رکشے دینہ سے مختلف روٹ پر جاتے ہیں وہ مانی کیوں کر رہے ہیں؟ان کا کرایہ وہ ہونا چاہیے جو مناسب ہے یا ار ٹی اے نے مقرر کیا ہے انتظامیہ کا فرض ہوتا ہے کہ وہ قانون کے مطابق عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دلوانے کی کوشش کریں بلاشبہ اس وقت عام شہری مہنگائی کی چکی میں پھنسا ہوا ہے لوگ دو وقت کے بجائے ایک وقت کی روٹی کھا کر گزارا کر رہے ہیں لہذا انتظامی آفیسران اپنے حاصل شدہ اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے مفاد عوام اپنے اختیارات کا استعمال کریں یقینا اس سے بہتری ہوگی۔



















